درد بھرا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - درد انگیز، پردرد، دردناک۔ "میری رائے میں اس زبان کے پیچھے جو دل ہے وہ درد بھرا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، حرفِ دل رس، ١٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'درد' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بھرنا' سے مشتق فعل ماضی 'بھرا' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٣٥ء سے "روح کائنات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درد انگیز، پردرد، دردناک۔ "میری رائے میں اس زبان کے پیچھے جو دل ہے وہ درد بھرا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، حرفِ دل رس، ١٠ )

جنس: مذکر